پاپا رازی (Paparazzi) کسی ایک شخص کا نام نہیں بلکہ اُن فری لانسر فوٹوگرافروں کو کہا جاتا ہے جو مشہور شخصیات کی نجی زندگی کی تصاویر خفیہ انداز میں بناتے ہیں۔
یہ اصطلاح اطالوی ہدایتکار Federico Fellini کی 1960 میں ریلیز ہونے والی فلم La Dolce Vita کے ایک کردار “پاپا رازو” سے مشہور ہوئی، جو ایک ایسا فوٹوگرافر تھا جو ہر وقت سیلیبریٹیز کا پیچھا کرتا رہتا تھا۔
اگرچہ یہ ابتدا میں صرف فلمی کردار تھا، لیکن حقیقی دنیا میں پاپا رازی کلچر کو شہرت دینے والا نام Ron Galella تھا، جسے دنیا کا سب سے مشہور پاپا رازی سمجھا جاتا ہے۔
رون گالیلا خود کو “پاپا رازو آرٹسٹ” کہتا تھا اور وہ مشہور شخصیات کی تصاویر لینے کے لیے انتہائی غیر معمولی طریقے اختیار کرتا تھا۔ کبھی وہ جھاڑیوں میں چھپ جاتا، کبھی ویٹر یا ڈرائیور کا روپ دھار لیتا اور بعض اوقات ہوٹل اسٹاف سے معلومات حاصل کرتا تھا۔
اس کا سب سے بڑا ہدف امریکا کی سابق خاتونِ اول Jacqueline Kennedy Onassis تھیں۔ رون گالیلا نے ان کی سیکڑوں تصاویر بنائیں، جن میں “Windblown Jackie” نامی تصویر سب سے زیادہ مشہور ہوئی۔
تاہم جیکولین کینیڈی اس تعاقب سے شدید پریشان ہو گئیں اور انہوں نے رون گالیلا کے خلاف مقدمہ دائر کیا، جس کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ فوٹوگرافر ان سے اور ان کے بچوں سے 50 فٹ دور رہے گا۔
رون گالیلا نے صرف سیاستدانوں ہی نہیں بلکہ ہالی ووڈ ستاروں کی بھی مسلسل نگرانی کی۔ معروف اداکار Marlon Brando ایک بار اس قدر غصے میں آگئے کہ انہوں نے رون گالیلا کو گھونسا مار دیا، جس سے اس کا جبڑا اور کئی دانت ٹوٹ گئے۔
پاپا رازی کلچر آج بھی دنیا بھر میں موجود ہے، تاہم اس کے ساتھ نجی زندگی، اخلاقیات اور میڈیا آزادی پر بحث آج تک جاری ہے۔














