جیکب آباد میں پسند کی شادی پر گاؤں نذرِ آتش، درجنوں گھر جلا دیے گئے

جیکب آباد میں پسند کی شادی پر گاؤں نذرِ آتش، درجنوں گھر جلا دیے گئے

جیکب آباد میں پسند کی شادی کے تنازع نے سنگین رخ اختیار کر لیا، جہاں مسلح افراد کے حملے میں ایک گاؤں کے درجنوں گھروں کو آگ لگا دی گئی۔

پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی، جس کے بعد مشتعل افراد نے گاؤں محمد صدیق آرائیں پر دھاوا بول دیا۔ رپورٹس کے مطابق سیکڑوں مسلح افراد نے حملے کے دوران 150 سے زائد گھروں کو نذر آتش کیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سدرہ چنہ اور محمد حسن برڑو 4 مئی کو گھر سے نکلے تھے اور اگلے روز حیدرآباد میں عدالت کے ذریعے شادی کی۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد لڑکے کے خاندان کو نشانہ بنایا گیا۔

متاثرہ جوڑے کا کہنا ہے کہ وہ دونوں بالغ ہیں اور اپنی مرضی سے قانونی شادی کی ہے۔ لڑکی سدرہ کے مطابق اس نے اپنی مرضی سے فیصلہ کیا، جبکہ محمد حسن نے اپنی اور اپنے خاندان کی جان کو خطرہ قرار دیتے ہوئے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

واقعے کے بعد پولیس نے دو الگ مقدمات درج کیے ہیں، جن میں ایک اغوا اور دوسرا گاؤں کو جلانے سے متعلق ہے۔ حکام کے مطابق متعدد ملزمان کے خلاف کارروائی جاری ہے جبکہ کچھ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

سندھ حکومت نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متاثرین کی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ حکومتی ترجمان کے مطابق معاملہ اب عدالت میں ہے اور متاثرہ خاندانوں کو امداد فراہم کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

Popular Posts

مزید خبریں