کاراکاس: وینزویلا میں حالیہ تباہ کن زلزلوں کے بعد آسمان کے اچانک سرخ رنگ میں تبدیل ہونے کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں، جس کے بعد مختلف قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں۔
رائٹرز کے مطابق یہ منظر ایسے وقت دیکھنے میں آیا جب ملک میں زلزلوں کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ہزاروں افراد اب بھی لاپتا ہیں۔
سرخ آسمان دیکھ کر بعض افراد نے اسے کسی نئی قدرتی آفت کی علامت قرار دیا، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس غیر معمولی منظر پر حیرت اور تشویش کا اظہار کیا گیا۔
تاہم ماہرین نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ایک قدرتی فضائی مظہر ہے، جسے مقامی طور پر “کاندیلازو” کہا جاتا ہے۔ ان کے مطابق غروبِ آفتاب کے وقت سورج کی روشنی فضا میں موجود گرد، باریک ذرات اور صحرائے صحارا سے آنے والے گرد و غبار سے گزرتی ہے، جس کے باعث سرخ اور نارنجی شعاعیں زیادہ نمایاں ہو جاتی ہیں۔ اس سائنسی عمل کو رے لی اسکیٹرنگ (Rayleigh Scattering) کہا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آسمان کے سرخ ہونے کا حالیہ زلزلوں سے براہِ راست کوئی سائنسی تعلق ثابت نہیں ہوا۔ البتہ زلزلوں کے بعد فضا میں گرد و غبار کی مقدار بڑھنے سے یہ منظر زیادہ نمایاں دکھائی دے سکتا ہے، تاہم اسے کسی نئی قدرتی آفت کی نشانی سمجھنا درست نہیں۔










