بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں برینٹ کروڈ کی قیمت 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچتے ہوئے 126 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی۔
عالمی تجارتی رپورٹس کے مطابق جمعرات کے روز بھی خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ برینٹ کروڈ میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح دیگر عالمی آئل بینچ مارکس میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی، جس کے باعث توانائی مارکیٹ میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی، خصوصاً امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی تعطل، عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس سے خام تیل کی قیمتوں پر اضافی دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔
عالمی قیمتوں میں اس اضافے کے پاکستان پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ ملک اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگر عالمی سطح پر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ قیمتوں کے جائزے میں پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔
توانائی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں مسلسل اضافہ مقامی سطح پر مہنگائی میں مزید شدت لا سکتا ہے، جس سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور صنعتی لاگت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ حکومتی سطح پر پیٹرولیم لیوی اور قیمتوں کے تعین سے متعلق مشاورت جاری ہے، جبکہ عوام کو ممکنہ اضافے کے باعث مزید مالی دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔
















