عنوان: اے آئی بوٹس کے ذریعے سائبر حملوں میں خطرناک اضافہ، نئی رپورٹ میں تشویشناک انکشاف

عنوان: اے آئی بوٹس کے ذریعے سائبر حملوں میں خطرناک اضافہ، نئی رپورٹ میں تشویشناک انکشاف

یک نئی عالمی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والے بوٹس کے ذریعے ہونے والے سائبر حملوں میں انتہائی تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے ڈیجیٹل سیکیورٹی کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

سائبر سیکیورٹی کمپنی تھیلیز کی 2026 کی ’بیڈ بوٹ رپورٹ‘ کے مطابق صرف ایک سال کے دوران روزانہ اے آئی بوٹس کے ذریعے کیے جانے والے حملوں کی تعداد 20 لاکھ سے بڑھ کر تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ تک جا پہنچی، جو دس گنا سے بھی زیادہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ اے آئی سے ہونے والے حملوں میں نمایاں اضافہ تشویشناک ہے، تاہم 2025 کے دوران سب سے بڑی تبدیلی یہ رہی کہ مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے کا عام حصہ بنتے گئے، جس سے سائبر خطرات کی نوعیت بھی زیادہ پیچیدہ ہو گئی۔

ماہرین کے مطابق اے آئی پر مبنی حملے دنیا بھر میں مختلف شعبوں کو متاثر کر رہے ہیں، جن میں ریٹیل، کاروباری ادارے، تعلیمی نظام اور سرکاری ادارے شامل ہیں۔ اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ جدید سائبر خطرات اب تقریباً ہر شعبے تک پھیل چکے ہیں۔

سیکیورٹی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ فشنگ، ڈیٹا چوری اور خودکار ہیکنگ جیسے خطرات سے نمٹنے کے لیے اداروں اور صارفین دونوں کو فوری حفاظتی اقدامات اپنانا ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق مضبوط سائبر سیکیورٹی پالیسی، جدید ڈیفنس سسٹمز اور عوامی آگاہی ہی اس بڑھتے ہوئے خطرے سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔

Popular Posts

مزید خبریں