جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں افغان طالبان کی جانب سے مبینہ سرحد پار گولہ باری کے نتیجے میں پاکستانی شہری آبادی متاثر ہوئی، جہاں بچوں اور ایک خاتون سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان جانب سے کی گئی بلااشتعال فائرنگ اور مارٹر حملوں نے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا، جس سے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
ذرائع کے مطابق سرحد پار سے داغے گئے مارٹر گولے مقامی شہریوں کے گھروں پر گرے، جس کے نتیجے میں کئی خاندان متاثر ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال وانا منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعے کی بنیادی وجہ سرحدی علاقوں میں افغان طالبان کی جانب سے بڑھتی ہوئی جارحانہ کارروائیاں ہیں، جن کے باعث سرحدی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے متعدد بار سرحدی آبادی کو نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جس پر پاکستان نے شدید تشویش ظاہر کی ہے۔
واقعے کے فوری بعد پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ میں ملوث سرحد پار عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز کی مؤثر کارروائی کے بعد مخالف جانب کی کئی پوسٹیں غیر فعال ہو گئیں۔
حکام کے مطابق پاکستانی فورسز نے صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا تاکہ شہری آبادی محفوظ رہے۔ سکیورٹی اداروں نے واضح کیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے کسی بھی جارحیت یا سرحدی خلاف ورزی کا سخت جواب دیا جائے گا اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سرحدی علاقوں میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے، جبکہ مقامی آبادی کے تحفظ کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
















