سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی سعودی ارامکو کے چیف ایگزیکٹو امین ناصر نے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں رکاوٹ طویل مدت تک جاری رہی تو عالمی تیل منڈیوں کے لئے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات کمپنی کے 2025 کے مالی نتائج جاری کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہی۔
امین ناصر کے مطابق خطے میں جاری جنگ اور شپنگ میں تعطل نے تیل اور گیس کے پورے نظام پر دباؤ بڑھا دیا ہے، اور ان کے بقول یہ صورتحال خطے کی توانائی صنعت کے لئے اب تک کا سب سے بڑا بحران بن چکی ہے۔ ارامکو چیف نے کہا کہ مسئلہ بڑھا تو اثر صرف تیل تک محدود نہیں رہے گا، شپنگ، انشورنس اور دوسری صنعتیں بھی متاثر ہوں گی۔
رائٹرز کے مطابق ارامکو نے خلیج سے کچھ برآمدات روکی ہیں اور سپلائی کو متبادل راستوں کی طرف موڑنے کی کوشش کی ہے، جس میں مشرق۔مغرب پائپ لائن کے ذریعے ریڈ سی کی جانب ترسیل بھی شامل ہے۔
اسی دن ارامکو نے 2025 کے لئے مالی نتائج بھی جاری کیے، رپورٹ کے مطابق سالانہ منافع میں لگ بھگ 12 فیصد کمی آئی اور کمپنی نے شیئر بائی بیک پروگرام کا بھی اعلان کیا۔












