بھارتی وزیراعظم مودی کا ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں شرکت سے انکار، سفارتی پالیسی پر سوالات

بھارتی وزیراعظم مودی کا ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں شرکت سے انکار، سفارتی پالیسی پر سوالات

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں شرکت سے انکار کے بعد بھارت کے اندرونِ ملک اور بین الاقوامی سطح پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم مودی کو آخری رسومات میں شرکت کی دعوت دی تھی، تاہم انہوں نے تہران جانے سے گریز کیا۔ بھارت کی جانب سے تقریب میں وزیرِ مملکت برائے خارجہ پبیترا مارگریٹا اور بہار کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ر) سید عطا حسنین پر مشتمل ایک جونیئر سطح کا وفد بھیجا گیا۔

بھارتی میڈیا اور سیاسی مبصرین نے اس فیصلے پر مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے ممکنہ سفارتی مصلحتوں کے باعث یہ فیصلہ کیا، جبکہ ناقدین کے مطابق اس اقدام سے بھارت کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کار جے ڈی بخشی نے کہا کہ سابق بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کی آخری رسومات میں ایرانی سپریم لیڈر نے شرکت کی تھی، اس لیے موجودہ صورتحال میں بھارت کو بھی اعلیٰ سطح پر نمائندگی کرنی چاہیے تھی۔ ان کے مطابق صرف جونیئر سطح کا وفد بھیجنا سفارتی لحاظ سے اہم اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب رپورٹس کے مطابق پاکستان نے ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں اعلیٰ سطح کا وفد بھیجا، جس کی قیادت وزیراعظم شہباز شریف نے کی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران بھارت کے لیے توانائی، تجارت اور خطے میں اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے مودی حکومت کے حالیہ فیصلے پر مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔

Popular Posts

No Content Available

مزید خبریں