منہ پر چمگادڑ بیٹھنے سے 11 سالہ بچہ ریبیز کا شکار ہو کر جاں بحق

منہ پر چمگادڑ بیٹھنے سے 11 سالہ بچہ ریبیز کا شکار ہو کر جاں بحق

اونٹاریو: کینیڈا کے صوبے اونٹاریو میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں 11 سالہ بچہ چمگادڑ سے ممکنہ رابطے کے بعد ریبیز (ہائڈروفوبیا) کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار گیا، حالانکہ اس کے جسم پر کاٹنے یا خراش کا کوئی واضح نشان موجود نہیں تھا۔

کینیڈین میڈیکل ایسوسی ایشن جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق بچہ ایک صبح اس وقت بیدار ہوا تو ایک چمگادڑ اس کی ناک پر بیٹھی ہوئی تھی۔ بچے نے اسے جھٹک کر ہٹا دیا جبکہ والد نے چمگادڑ کو گھر سے باہر نکال دیا۔ چونکہ بچے پر کسی قسم کے زخم کے آثار نہیں تھے، اس لیے اہلِ خانہ نے طبی معائنہ ضروری نہیں سمجھا۔

رپورٹ کے مطابق تقریباً 19 روز بعد بچے میں چہرے کی بے حسی، الٹیاں، درد، بخار، نگلنے میں دشواری، زبان لڑکھڑانے، ذہنی الجھن اور دیگر اعصابی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں۔ اسپتال میں ڈاکٹروں نے فوری طور پر ریبیز کا شبہ ظاہر کیا، تاہم اس وقت تک بیماری آخری مرحلے میں پہنچ چکی تھی۔

بچے کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیر علاج رکھا گیا، لیکن علامات ظاہر ہونے کے بعد علاج مؤثر ثابت نہ ہو سکا اور اسپتال میں داخلے کے 17ویں روز وہ انتقال کر گیا۔

طبی ماہرین کے مطابق ریبیز کی علامات ظاہر ہونے کے بعد یہ بیماری تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے، جبکہ بروقت پوسٹ ایکسپوژر پروفیلیکسس (PEP) ویکسین لگوانے سے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔

ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی شخص کا چمگادڑ سے براہِ راست رابطہ ہو، چاہے کاٹنے یا خراش کا واضح نشان موجود نہ بھی ہو، تب بھی فوری طور پر طبی امداد حاصل کرنی چاہیے کیونکہ بعض اوقات چمگادڑ کے کاٹنے کے نشانات انتہائی معمولی ہوتے ہیں اور نظر نہیں آتے۔

ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ایسے واقعات کو معمولی نہ سمجھیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے کی صورت میں فوری طور پر محکمہ صحت یا قریبی اسپتال سے رجوع کریں۔

Popular Posts

No Content Available

مزید خبریں