برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں قائم متعدد امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مختلف ممالک میں موجود کم از کم 20 امریکی فوجی اڈے ایرانی حملوں کی زد میں آئے۔
رپورٹ میں جاری کی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں بعض اہم فوجی تنصیبات، ریڈار سسٹمز، ہینگرز اور ایندھن ذخیرہ کرنے والے مراکز کو نقصان پہنچنے کے شواہد دکھائے گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حملوں کے نتیجے میں امریکی دفاعی نظام کے کئی حساس حصے متاثر ہوئے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکی فوجی اڈے مسلسل خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حملوں نے خطے میں سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے اس حوالے سے مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم امریکی دفاعی اداروں نے خطے میں اپنی تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
دفاعی مبصرین کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے اثرات کو مزید نمایاں کر دیا ہے اور اس سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عالمی توجہ مرکوز ہو رہی ہے۔















