جوابی کارروائی کے بعد ایران کا اسرائیل کے خلاف فوجی کارروائیاں روکنے کا اعلان

ایران کے پاس برسوں کی جنگ کے لیے میزائل اور ڈرون ذخائر موجود ہیں، سینئر ایرانی رکن پارلیمنٹ

ایران نے اسرائیل کے خلاف فوجی کارروائیاں روکنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

ترجمان خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹرز نے اپنے بیان میں کہا کہ تہران نے جنوبی لبنان اور ضاحیہ پر اسرائیلی حملوں کا بھرپور جواب دیا اور ایرانی فوج نے اسرائیل کو “عبرتناک سبق” سکھایا ہے۔

ترجمان کے مطابق ایران نے فی الحال اسرائیل پر حملے روک دیے ہیں، تاہم اگر اسرائیل نے جنوبی لبنان میں دوبارہ جارحیت کی تو اس کا زیادہ تباہ کن جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب ایرانی آرمی چیف امیر خاتمی نے کہا کہ فوجی جوان خون کے آخری قطرے تک دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی حمایت سے مسلح افواج کے حوصلے بلند ہیں جبکہ اسرائیلی جارحیت کی مکمل ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر دشمن نے دوبارہ اشتعال انگیزی کی تو ایران کا اگلا اقدام پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوگا۔ آرمی چیف کے مطابق جنگ بندی کی خلاف ورزی سے ثابت ہوگیا کہ اسرائیل کسی معاہدے کا پابند نہیں۔

اسرائیل کے حالیہ فضائی حملوں کے بعد ایران نے “جواب الجواب” کارروائی کرتے ہوئے اسرائیلی علاقوں پر بیلسٹک میزائلوں کی نئی لہر داغی تھی۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور عسکری حکام نے خبردار کیا کہ حالیہ حملے صرف ایک وارننگ ہیں اور اگر اسرائیل نے دوبارہ کوئی کارروائی کی تو ایران کا جواب انتہائی تباہ کن ہوگا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر لبنان اور بیروت پر اسرائیلی حملے جاری رہے تو ایران اپنی جوابی کارروائی کا دائرہ مزید وسیع کرے گا۔

حکام کے مطابق ایران مذاکرات کے آغاز سے ہی خطے خصوصاً لبنان میں مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کرتا آ رہا ہے، تاہم اسرائیلی حملوں کا جواب دینا ایران کا دفاعی حق ہے۔

Popular Posts

مزید خبریں