آبنائے ہرمز پر ہماری تلوار ہمیشہ لٹکتی رہے گی، عباس عراقچی

آبنائے ہرمز پر ہماری تلوار ہمیشہ لٹکتی رہے گی، عباس عراقچی

ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اب پہلے کی طرح نہیں رہے گا اور ایران کی تلوار ہمیشہ اس اہم بحری گزرگاہ پر لٹکتی رہے گی۔

ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ جب بھی ضرورت پڑی ایرانی مسلح افواج آبنائے ہرمز میں داخل ہوں گی، تاہم وہاں عالمی قوانین کے مطابق قانونی نظام نافذ کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ایران اور عمان جلد آبنائے ہرمز کے مشترکہ کنٹرول سے متعلق اعلامیہ جاری کریں گے جبکہ معاہدے پر آئندہ چند روز میں ڈیجیٹل طریقے سے دستخط بھی متوقع ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق نئے نظام کے تحت جہازوں سے کوئی ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا، البتہ فراہم کی جانے والی سہولیات کے اخراجات لیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر نئے قواعد و ضوابط آئندہ 60 روز میں نافذ کیے جائیں گے اور تجارتی و عسکری جہازوں کیلئے الگ الگ قوانین ہوں گے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ مجوزہ معاہدے میں 14 نکات شامل ہیں، تاہم سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ان کی تفصیلات فی الحال میڈیا پر جاری نہیں کی جا رہیں۔ ان کے مطابق اسرائیل اس معاہدے کا سب سے بڑا مخالف ہے۔

انہوں نے امریکا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو امریکی وعدہ خلافیوں کا پہلے بھی تجربہ رہا ہے اور اگر پہلے مرحلے کے وعدوں پر عمل نہ ہوا تو ایران دوسرے مرحلے کی طرف نہیں بڑھے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ معاہدے میں ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی، سمندری محاصرے کے خاتمے، اقتصادی مسائل اور تعمیر نو سے متعلق نکات بھی شامل ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دشمن پہلے مذاکرات کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا، پھر جنگ کی طرف گیا، لیکن جب وہاں بھی ناکامی ہوئی تو دوبارہ مذاکرات کی درخواست کی گئی۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام، مسلح افواج، سفارت کاری اور میدان جنگ سب ایک ہی مقصد کیلئے متحد ہیں اور ایران جنگ کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آیا ہے۔

Popular Posts

مزید خبریں