امریکا کے سائنس دانوں نے تاریخ میں پہلی بار مکمل طور پر غیر جاندار کیمیائی اجزا سے ایک مصنوعی خلیہ (Artificial Cell) تیار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی، جو زندگی کے بنیادی حیاتیاتی افعال انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پیش رفت کو حیاتیاتی انجینئرنگ کے میدان میں ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکا کی یونیورسٹی آف مینیسوٹا کے محققین کے مطابق انہوں نے ایسا مصنوعی خلیہ تیار کیا ہے جو توانائی حاصل کرنے، نشوونما کرنے، اپنی نقل تیار کرنے اور تقسیم ہونے سمیت زندگی کے مکمل حیاتیاتی چکر سے گزر سکتا ہے۔ اس منصوبے کو “SpudCell” کا نام دیا گیا ہے۔
تحقیقی ٹیم کی سربراہ ایسوسی ایٹ پروفیسر کیٹ ایڈمالا نے کہا کہ یہ ان کے کیریئر کا سب سے اہم منصوبہ ہے، جس نے ثابت کیا کہ زندگی کے بنیادی افعال کو صرف کیمیائی اجزا کی مدد سے بھی انجینئر کیا جا سکتا ہے۔
محققین کے مطابق اسپڈ سیل کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ قدرتی خلیوں کی طرح سائٹواسکیلیٹن کے بغیر بھی تقسیم ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ قدرتی انتخاب (Natural Selection)، جینیاتی نقل (Genome Replication)، نشوونما اور مسابقت جیسے حیاتیاتی عمل بھی انجام دے سکتا ہے۔
سائنس دانوں نے بتایا کہ اس مصنوعی خلیے کا جینوم صرف 90 کلو بیس پیئرز پر مشتمل ہے، جو قدرتی کم سے کم جینوم کے اندازے سے بھی چھوٹا ہے۔ اس کا جینیاتی مواد سات الگ الگ ڈی این اے پلازمڈز میں تقسیم کیا گیا ہے، جس سے مستقبل میں مختلف حیاتیاتی افعال کو الگ الگ پروگرام کرنا ممکن ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں ادویات، بایو انجینئرنگ، صنعتی کیمیکلز اور جدید طبی علاج کی تیاری میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جبکہ ایسے حیاتیاتی عمل بھی ممکن بنا سکتی ہے جو موجودہ صنعتی طریقوں سے انجام نہیں دیے جا سکتے۔
تحقیقی مقالے کی اشاعت کے ساتھ ہی محققین نے Biotic کے نام سے ایک غیر منافع بخش تحقیقی ادارہ بھی قائم کیا ہے، جس کا مقصد مصنوعی خلیاتی انجینئرنگ کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ تحقیقی پلیٹ فارم تیار کرنا ہے۔
محققین کے مطابق اگرچہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے، تاہم اس ٹیکنالوجی کو عملی اور صنعتی سطح پر استعمال کے قابل بنانے کے لیے مزید تحقیق اور عالمی تعاون کی ضرورت ہوگی۔









