امریکی سائنسدانوں نے ایک ایسی انقلابی مشین تیار کی ہے جو سولر پینلز کی طرز پر ہوا سے براہِ راست پینے کا صاف پانی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کیلیفورنیا یونیورسٹی کے کیمیا دان اور نوبل انعام یافتہ سائنسدان عمر یاغی کی قیادت میں تیار کی گئی یہ ٹیکنالوجی دنیا میں پانی کے بڑھتے بحران کا ممکنہ حل قرار دی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اٹوکو کمپنی کی تیار کردہ یہ مشین روزانہ تقریباً 1000 لیٹر تک صاف پانی پیدا کر سکتی ہے، حتیٰ کہ ایسے علاقوں میں بھی جہاں ہوا میں نمی کی مقدار 20 فیصد سے کم ہو۔
ماہرین کے مطابق اس نظام میں “میٹل آرگینک فریم ورکس” نامی خاص مادّہ استعمال کیا گیا ہے، جو ہوا میں موجود نمی کو جذب کر کے اسے محفوظ کرتا ہے۔
اس کے بعد سورج کی حرارت یا کم توانائی کے ذریعے اس نمی کو پانی میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، جس کے لیے نہ تو روایتی بجلی کے بھاری استعمال کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی بڑے کولنگ سسٹم کی۔
رپورٹ کے مطابق یہ یونٹس کنٹینر سائز کے ہوتے ہیں اور آف گرڈ علاقوں میں بھی کام کر سکتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں خشک سالی سے متاثرہ علاقوں، دیہات اور آفات زدہ خطوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں اربوں افراد کو محفوظ پینے کا پانی میسر نہیں، اور یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
سائنسدان عمر یاغی کے مطابق یہ خیال ان کے بچپن کے تجربات اور پانی کی شدید قلت کے مشاہدے سے پیدا ہوا، اور مستقبل میں ہر گھر میں ایسے واٹر سسٹم نصب ہو سکتے ہیں جیسے آج سولر پینلز لگائے جاتے ہیں۔












