ایران پر امریکی کارروائی کا خدشہ، خطے میں تیاریوں کے آثار

ایران پر امریکی کارروائی کا خدشہ، خطے میں تیاریوں کے آثار

ایران کے خلاف امریکی فوجی مداخلت کا امکان بڑھ گیا ہے، دو یورپی عہدیداروں نے کہا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں کارروائی ہوسکتی ہے، جبکہ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق امریکی فیصلہ دکھائی دیتا ہے، وقت اور نوعیت واضح نہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے کشیدگی کے دوران اپنی فضائی حدود میں پابندیاں لگائیں اور فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق کئی ایئرلائنز نے ایرانی فضائی حدود سے گریز کیا۔

اسی پس منظر میں برطانیہ نے تہران میں اپنا سفارتخانہ عارضی طور پر بند کر کے اسے ریموٹ آپریشن پر منتقل کر دیا، اور اپنی ٹریول ایڈوائزری میں تبدیلی کی۔

ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ اگر واشنگٹن نے حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، اسی وجہ سے امریکا نے احتیاطی اقدام کے طور پر مشرقِ وسطیٰ میں اپنے بعض اڈوں سے کچھ عملہ واپس بلانا شروع کیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ انہیں معلومات دی گئی ہیں کہ ایران میں کریک ڈاؤن کی شدت کم ہو رہی ہے، مگر انہوں نے ممکنہ امریکی فوجی اقدام کو مکمل طور پر رد بھی نہیں کیا۔

Popular Posts

مزید خبریں