وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت جمعہ کے روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا دوبارہ جائزہ لے کر نئی قیمتوں کا تعین کرے گی۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور جنگ کے اثرات نے پاکستان کی معاشی پیش رفت کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ملکی معیشت کے لیے بڑا چیلنج بن چکا ہے، تاہم حکومت مشکل حالات سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
شہباز شریف نے بتایا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام اور جنگ بندی کے لیے سفارتی سطح پر مسلسل کوششیں کیں، جبکہ ایران، امریکا اور دیگر متعلقہ ممالک کے ساتھ رابطوں میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان سفارتی کاوشوں کا مقصد خطے میں استحکام پیدا کرنا اور معاشی دباؤ کو کم کرنا ہے۔
وزیراعظم کے مطابق جنگ سے قبل پاکستان کا ہفتہ وار پٹرولیم درآمدی بل تقریباً 300 ملین ڈالر تھا، جو موجودہ حالات میں بڑھ کر 800 ملین ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کفایت شعاری، مؤثر پالیسی سازی اور توانائی بچت اقدامات کے ذریعے عوامی بوجھ کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے وزیر پٹرولیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومتی اقدامات کی بدولت پاکستان میں پٹرول کی فراہمی دیگر کئی ممالک کے مقابلے میں بہتر رہی اور ملک میں سپلائی بحران پیدا نہیں ہوا۔
وزیراعظم نے مزید بتایا کہ پاکستان نے سعودی عرب کے تعاون سے ساڑھے تین ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ادا کیے، جس سے مالی استحکام میں مدد ملی۔ انہوں نے سعودی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو موجودہ معاشی چیلنجز سے نکالنے کے لیے دوست ممالک کا تعاون اہم ہے۔
شہباز شریف نے واضح کیا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے، سبسڈی برقرار رکھنے اور پبلک ٹرانسپورٹ سمیت عام شہریوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے صوبوں کے ساتھ مشاورت جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکلات کے باوجود حکومت معاشی بحالی، امن اور ترقی کے سفر کو دوبارہ تیز کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔













