امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی بندرگاہوں پر جاری امریکی بحری ناکہ بندی کو ’’دوستانہ‘‘ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد نقصان پہنچانا نہیں بلکہ دباؤ برقرار رکھنا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کو کسی بڑے تصادم کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ یہ ایک ایسا اقدام ہے جسے ان کے بقول کوئی چیلنج نہیں کر رہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ صورتحال دشمنی کے خاتمے سے متصادم نہیں۔
فلوریڈا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر ایران نے دوبارہ جارحانہ طرز عمل اختیار کیا تو واشنگٹن نئی فوجی کارروائی پر غور کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے رویے پر مستقبل کی امریکی حکمت عملی کا انحصار ہوگا۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے سے متعلق کسی بھی ممکنہ منصوبے کا جائزہ لیں گے، تاہم انہوں نے اس کی کامیابی کے امکانات پر شکوک کا اظہار کیا۔
ٹرمپ نے ماضی کے امریکی صدور کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس کی منظوری کے معاملے پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ سابقہ صدور بھی اہم عسکری اقدامات میں مختلف آئینی تشریحات کے تحت فیصلے کرتے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی صدر اس سے قبل ایران کے ساتھ جنگ بندی اور دشمنی کے خاتمے کا اعلان کر چکے ہیں، تاہم ایران کے خلاف بحری دباؤ، کانگریس میں قانونی بحث اور آئینی تقاضوں کے باعث یہ معاملہ بدستور امریکی سیاست اور خارجہ پالیسی میں اہمیت رکھتا ہے۔















