ایران معاہدے پر ٹرمپ کا فیصلہ مؤخر، اہم اجلاس بے نتیجہ ختم

ٹرمپ کو ایران کے مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے، ورنہ امریکا کو مزید نقصان ہوگا: ایرانی وزارت دفاع

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے معاملے پر امریکی صدر Donald Trump نے حتمی فیصلہ مؤخر کر دیا، جبکہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والا اہم اجلاس کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوگیا۔

رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کے حساس “سچویشن روم” میں ہونے والا اجلاس تقریباً دو گھنٹے جاری رہا، جس میں ایران کے ساتھ جنگ بندی اور معاہدے میں توسیع سے متعلق مختلف امور پر غور کیا گیا۔

امریکی اخبار The New York Times کے مطابق اجلاس کے دوران کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہ آسکی، جبکہ وائٹ ہاؤس نے بھی اندرونی تفصیلات جاری کرنے سے گریز کیا۔

اجلاس کے بعد ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ صدر ٹرمپ صرف اسی معاہدے کو قبول کریں گے جو مکمل طور پر امریکی مفادات کے مطابق ہوگا اور ان کی مقرر کردہ شرائط پر پورا اترے گا۔

امریکی حکام نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب ایرانی ذرائع نے عالمی خبر رساں ادارے Reuters کو بتایا کہ معاہدہ حتمی مرحلے کے قریب پہنچ چکا ہے، تاہم دونوں فریقین کی جانب سے ابھی باضابطہ منظوری باقی ہے۔

ذرائع کے مطابق پسِ پردہ سفارتی رابطے جاری ہیں اور اہم نکات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

Popular Posts

مزید خبریں