کراچی میں کتے کے کاٹنے کے واقعات پر ہونے والی ایک اہم طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ زیرِ مطالعہ 100 متاثرین میں سے 64 افراد کے زخموں میں ریبیز وائرس RNA کے شواہد پائے گئے، جس نے شہری علاقوں میں اس مہلک مرض کے خطرے کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق کورنگی اور ملیر جیسے علاقوں میں کتے کے کاٹنے کے بعد ریبیز وائرس کی منتقلی کا خطرہ خاص طور پر زیادہ دیکھا گیا۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر متاثرہ افراد بروقت ویکسین نہ لگوائیں تو جان لیوا بیماری لاحق ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ کتے کے کاٹنے کے بعد ابتدائی 15 منٹ انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر متاثرہ جگہ کو فوری طور پر صابن اور بہتے پانی سے اچھی طرح دھو لیا جائے تو وائرس کی شدت کم کرنے میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔
طبی ماہرین نے واضح کیا کہ ریبیز کی علامات ظاہر ہونے کے بعد بیماری تقریباً سو فیصد جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، اسی لیے فوری طبی امداد، بروقت ویکسینیشن اور مکمل حفاظتی کورس زندگی بچانے کے لیے ناگزیر ہیں۔
اس جدید تحقیق میں کراچی کے طبی اداروں اور بین الاقوامی ماہرین نے زخموں سے لیے گئے نمونوں پر PCR ٹیسٹ کے ذریعے وائرس کی موجودگی کا جائزہ لیا، جسے ریبیز کی جلد تشخیص میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ نتائج کے مطابق جدید ویکسینیشن کورس نے ایک ہفتے کے اندر اکثریتی مریضوں میں مؤثر مدافعت پیدا کی۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ کتے کے کاٹنے کی صورت میں فوری طور پر زخم کو کم از کم 15 منٹ تک صابن اور پانی سے صاف کریں، پھر بغیر تاخیر ڈاکٹر سے رجوع کر کے اینٹی ریبیز ویکسین کا مکمل کورس کروائیں، کیونکہ چند گھنٹوں کی تاخیر بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔








