پیٹرولیم ڈیلرز نے کمیشن میں اضافے کے مطالبے پر حکومت کو دو دن کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک بھر میں پیٹرول پمپس کے حوالے سے بڑا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
پیٹرولیم ڈیلرز کے چیف ایڈوائزر ملک خدا بخش نے کہا ہے کہ موجودہ کمیشن کے تحت پیٹرول پمپس چلانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے اور ڈیلرز شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آج وزیر پیٹرولیم کو کمیشن میں اضافے کے مطالبے سے متعلق حتمی خط ارسال کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو ڈیلرز ایسوسی ایشن اپنی آئندہ حکمت عملی کا اعلان کرے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماہِ مئی میں ڈیزل کی فروخت میں تقریباً 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ اسمگل شدہ ایندھن مارکیٹ میں تیزی سے جگہ بنا رہا ہے۔
پیٹرولیم ڈیلرز کے مطابق ملک کی پانچ ریفائنریز نے بھی حکومت کو ایندھن کی اسمگلنگ اور کم فروخت پر اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا ہے۔ ریفائنریز کا مؤقف ہے کہ ڈیزل کی فروخت میں کمی کے باعث ذخیرہ گاہوں میں جگہ کم پڑ رہی ہے۔
ڈیلرز نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے دوران حکومت نے ان سے تعاون طلب کیا تھا، تاہم اب وہ خود شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر پیٹرولیم سے مطالبہ کیا کہ کراچی کا دورہ کر کے زمینی حقائق اور ڈیلرز کو ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جائے۔
پیٹرولیم ڈیلرز کا کہنا ہے کہ اگر 48 گھنٹوں میں حکومت کی جانب سے مثبت جواب نہ ملا تو چیئرمین عبد السمیع خان آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔















