بھارت میں زیرِ تفتیش کیتن اگروال قتل کیس میں پولیس نے مزید اہم انکشافات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ملزمہ سیا گوئل نے مبینہ طور پر منگیتر کیتن اگروال سے شاپنگ کے بہانے ایک کروڑ روپے حاصل کیے اور وہ رقم اپنے مبینہ بوائے فرینڈ چیتن چوہدری کو منتقل کر دی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 18 جون 2026 کو لوہا گڑھ فورٹ میں پیش آنے والے قتل کے واقعے کی تحقیقات کے دوران پولیس سیا گوئل کے مالی معاملات، بینک اکاؤنٹس اور رقم کی منتقلی کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ تفتیشی حکام یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ آیا چیتن چوہدری نے رقم کے لیے سیا گوئل کو بلیک میل کیا تھا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق سیا گوئل نے مبینہ طور پر قتل کے بعد فرار ہونے کی منصوبہ بندی بھی کر رکھی تھی، جبکہ کیتن اگروال کے قتل کا منصوبہ اپنے مبینہ بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر تیار کیا گیا۔
تفتیشی حکام کے مطابق سیا گوئل اور چیتن چوہدری اکتوبر 2025 سے مبینہ طور پر خفیہ تعلقات میں تھے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ دونوں کے درمیان 2,004 فون کالز ہوئیں جن کا مجموعی دورانیہ 238 گھنٹے رہا۔
پولیس کے مطابق قتل اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں بلکہ پہلے سے تیار کی گئی سازش تھی، اور 18 جون سے قبل بھی کیتن اگروال کو قتل کرنے کی متعدد کوششیں کی گئی تھیں۔
تحقیقات میں سامنے آنے والے سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق دونوں ملزمان 17 جون کو پونے کے ایک کیفے میں ملاقات کرتے ہوئے دکھائی دیے، جہاں مبینہ طور پر قتل کے منصوبے کو حتمی شکل دی گئی اور لوہا گڑھ فورٹ کو واردات کے مقام کے طور پر منتخب کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ منصوبے کے مطابق سیا گوئل ایک مخصوص مقام پر بیٹھ کر اشارہ دیتی، پھر کھڑی ہو جاتی، جس کے بعد چیتن چوہدری مبینہ طور پر کیتن اگروال کو چٹان سے دھکا دیتا۔
تفتیش کاروں کے مطابق چیتن چوہدری نے ٹول پلازوں کے ریکارڈ سے بچنے کے لیے قتل کے مقام تک تقریباً 90 کلومیٹر کا سفر اسکوٹر پر کیا۔
پولیس کو یہ بھی شبہ ہے کہ دونوں ملزمان نے انٹرنیٹ اور یوٹیوب پر قتل کے طریقے تلاش کیے، ممکنہ پولیس تفتیش کے سوالات کے جوابات پہلے سے تیار کیے، بھیس بدلنے کا انتظام کیا اور واقعے سے پہلے اور بعد کی تمام الیکٹرانک چیٹس حذف کر دیں۔ حذف شدہ ڈیٹا کی بازیابی کے لیے موبائل فون فرانزک لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق اس وقت دونوں ملزمان ایک دوسرے پر الزام عائد کر رہے ہیں۔ چیتن چوہدری کا مؤقف ہے کہ سیا گوئل نے کیتن اگروال کو دھکا دیا، جبکہ سیا گوئل کا کہنا ہے کہ یہ عمل چیتن چوہدری نے انجام دیا۔ تفتیش جاری ہے اور حتمی حقائق فرانزک شواہد اور عدالتی کارروائی کے بعد سامنے آئیں گے۔










