پاکستان میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کے لیے فارما ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس کے تحت ادویات کی تصدیق اب بارکوڈ کے ذریعے ممکن ہوگی۔
ڈریپ ذرائع کے مطابق ملک بھر میں انسانی اور ویٹرنری ادویات بنانے والی تمام فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے لیے دوا کے پیکٹس پر ٹو ڈی (2D) بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس نظام کے نفاذ کے لیے 9 اکتوبر کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے فارما کمپنیوں، درآمد کنندگان، پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PPMA)، پاکستان ویٹرنری فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشن (PVPA)، فارما بیورو، پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن سمیت متعلقہ اداروں کو باقاعدہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔
ڈریپ نے صوبائی ڈائریکٹر جنرل ڈرگ کنٹرول اور چیف ڈرگ انسپکٹرز کو بھی مراسلے ارسال کیے ہیں، جن میں ہدایت کی گئی ہے کہ تمام کمپنیاں 9 اکتوبر سے قبل ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کے لیے ضروری انتظامات مکمل کریں۔
جعلی دوا کی تصدیق کیسے ہوگی؟
نئے نظام کے تحت صارفین دوا کے پیکٹ پر موجود 2D بارکوڈ کو اسکین کرکے دوا کی اصلیت کی تصدیق خود کر سکیں گے۔ بارکوڈ کے ذریعے دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت، استعمال اور دیگر مستند معلومات بھی حاصل کی جا سکیں گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس ڈیجیٹل نظام کے ذریعے جعلی اور غیر معیاری ادویات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں نمایاں مدد ملے گی۔
واضح رہے کہ وفاقی کابینہ پہلے ہی ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ اور ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ترامیم کی منظوری دے چکی ہے، جبکہ ڈریپ نے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل بھی مکمل کر لیا ہے۔










