سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ موجودہ نظام کے تحت نہ ملک صحیح انداز میں چل رہا ہے اور نہ ہی اسے مؤثر طریقے سے چلایا جا سکتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم گھر چلے جائیں، اپنی جگہ برقرار رہیں یا پوری کابینہ تبدیل کر دی جائے، اس سے ملک پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا کیونکہ اصل مسئلہ موجودہ نظام ہے۔
انہوں نے کہا کہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر مضبوط بلدیاتی نظام قائم کیا جائے تو عوام کو تعلیم، صحت، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی بہتر انداز میں ممکن ہو سکے گی۔
سابق وزیراعظم کے مطابق حکومتیں مضبوط بلدیاتی نظام قائم نہیں کرنا چاہتیں کیونکہ حکمران اپنے مفادات کے مطابق قانون سازی اور پالیسیاں بناتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام سے حکومتی نظام زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے، جبکہ ملک کے مختلف علاقوں سے نئے صوبوں کے قیام کی آوازیں بھی بلند ہو رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے فیصلے کیے جانے چاہئیں۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان میں حقیقی بہتری کے لیے جامع اصلاحات، قانون کی حکمرانی، عوامی رائے کا احترام اور شفاف انتخابات ناگزیر ہیں۔ ان کے بقول جب تک انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد بحال نہیں ہوگا اور انتخابی دھاندلی کا خاتمہ نہیں کیا جائے گا، عوام موجودہ نظام کو قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے آزاد کشمیر کے انتخابات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں عوام کا اعتماد کھو چکی ہیں، جبکہ ایسا انتخابی عمل جس میں حقیقی عوامی نمائندے مؤثر انداز میں حصہ نہ لے سکیں، نہ صرف عوام بلکہ کشمیر کے مؤقف کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
لاہور میں غیر ملکی خواتین کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ ایک خالصتاً فوجداری نوعیت کا مقدمہ ہے، جس میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے اور عدالتی نظام کو انصاف فراہم کرنا چاہیے، کیونکہ دنیا کی نظریں اس معاملے پر پاکستان کے طرزِ عمل پر مرکوز ہیں۔









