ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے ارکان کو ایک باضابطہ خط بھیجا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق خط میں کہا گیا ہے کہ ایرانی قیادت کی ہلاکت کے بعد ذمہ داروں کو “گہرے اور دور رس نتائج” کا سامنا ہوگا۔
ایران کے خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی سرزمین پر ہونے والا حملہ امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کا حصہ تھا اور اسے ایک “دہشت گردانہ” اور “مجرمانہ” اقدام قرار دیا گیا۔ خط میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری اور موثر اقدامات کرے تاکہ ذمہ داروں کا تعین اور جوابدہی ہو سکے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق آیت اللہ سید علی خامنہ ای ایران کے اعلیٰ ترین ریاستی منصب پر فائز تھے اور دنیا بھر میں ان کے مذہبی مقام کی وجہ سے اس واقعے کے اثرات مزید وسیع ہیں۔ ایران نے خط میں کہا کہ اگر عالمی سطح پر فیصلہ کن ردعمل سامنے نہ آیا تو بین الاقوامی قانونی نظام کو نقصان پہنچے گا۔
خط میں یہ مؤقف بھی شامل ہے کہ یہ کارروائی اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ایران نے یہ بھی لکھا کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
اسی دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے سلامتی کونسل میں خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔












