امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف ممکنہ عسکری کارروائیوں کی تیاری کے لیے عراق کے ایک صحرائی علاقے میں خفیہ فوجی مرکز قائم کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق یہ مبینہ مرکز اسرائیلی اسپیشل فورسز کی موجودگی کے ساتھ ساتھ فضائی آپریشنز کی معاونت کے لیے لاجسٹک سہولت کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق وہاں امدادی اور ریسکیو ٹیمیں بھی موجود تھیں تاکہ ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
میڈیا دعووں میں کہا گیا ہے کہ عراقی فورسز ایک موقع پر اس مقام کے قریب پہنچ گئی تھیں، تاہم مبینہ طور پر بعد ازاں صورتحال کو خفیہ رکھنے کے لیے سخت اقدامات کیے گئے۔
اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد خطے میں سکیورٹی اور خودمختاری سے متعلق نئے سوالات پیدا ہو گئے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پہلے ہی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
اسرائیلی حکام کی جانب سے تاحال ان دعوؤں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے ان اطلاعات کی مکمل تصدیق بھی نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایسے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ علاقائی سیاست، عراق کی داخلی سلامتی اور ایران اسرائیل تنازع کے تناظر میں بڑی پیش رفت تصور کی جا سکتی ہے۔













