ایران نے یورپی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ تہران نے زور دیا کہ یورپی ممالک کو ایسے اقدامات سے دور رہنا چاہیے جو علاقائی کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہوں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق یورپی ممالک اگر امریکی یا اسرائیلی پالیسیوں کے زیر اثر فیصلے کرتے ہیں تو اس کے منفی اثرات خود ان کے سیاسی اور معاشی مفادات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حساس بحری گزرگاہوں میں کسی بھی نئی مداخلت سے نہ صرف سکیورٹی صورتحال متاثر ہوگی بلکہ عالمی توانائی منڈی میں بھی غیر یقینی بڑھ سکتی ہے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق موجودہ تنازع میں مزید بیرونی شمولیت خطے کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے، اس لیے عالمی برادری کو کشیدگی میں اضافہ کرنے کے بجائے سفارتی حل اور جنگ بندی کی کوششوں پر توجہ دینی چاہیے۔
ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر خلیج فارس میں صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اس کے اثرات عالمی سطح پر تیل اور توانائی کی قیمتوں پر پڑ سکتے ہیں، جس سے متعدد معیشتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
ایران نے عالمی قوتوں پر زور دیا کہ وہ ذمہ دارانہ کردار ادا کریں، خطے میں امن و استحکام کو ترجیح دیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو موجودہ بحران کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔















