ایرانی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے، ورنہ امریکا کو مزید نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت دفاع کے مطابق امریکا اور اسرائیل کا اتحاد جنگ اور سفارتکاری دونوں محاذوں پر ناکامی سے دوچار ہے، اور موجودہ صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ ایران کے مطالبات کو تسلیم کرنا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر امریکا نے ایران کی تجاویز قبول نہ کیں تو خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا اور اس کے نتائج امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ترجمان Esmail Baghaei نے کہا تھا کہ پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل میں فی الحال جوہری پروگرام پر بات نہیں ہو رہی، بلکہ توجہ جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی پر مرکوز ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران این پی ٹی کا رکن ہے اور یورینیم افزودگی کو اپنا قانونی حق سمجھتا ہے، جبکہ اگر امریکا نے جوہری پروگرام کو ایجنڈا بنانے کی کوشش کی تو اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ترجمان کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات گہرے ہیں اور فوری معاہدے کی توقع نہیں کی جا سکتی، کیونکہ سفارتی عمل میں مزید وقت درکار ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالیہ سفارتی رابطوں میں قطر اور دیگر ممالک کے وفود بھی شامل رہے، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کو مرکزی ثالث کی حیثیت حاصل ہے۔
ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی اقدامات کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ خطے میں بحری راستوں پر دباؤ قابل قبول نہیں۔















