ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ترجمان Esmail Baghaei نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حتمی مسودے کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور مختلف نکات پر بات چیت جاری ہے۔
اپنے بیان میں اسماعیل بقائی نے بتایا کہ معاہدے کے حوالے سے پاکستانی وفد جمعے کی شام تہران پہنچا، جبکہ وفاقی وزیر داخلہ Mohsin Naqvi پہلے ہی ایران میں موجود تھے۔ ان کے مطابق فریقین ایک مشترکہ مسودے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
ترجمان ایرانی مذاکراتی ٹیم کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر ایران اور عمان باہمی مشاورت سے لائحہ عمل تیار کریں گے، جبکہ دیگر متعلقہ ممالک سے بھی رابطے جاری رکھے جائیں گے تاکہ بحری گزرگاہ کی سیکیورٹی برقرار رکھی جا سکے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی ایران کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے اور واشنگٹن ایرانی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
اسماعیل بقائی کے مطابق منجمد ایرانی فنڈز کی بحالی بھی مجوزہ معاہدے کے نکات میں شامل کی جا رہی ہے، جبکہ ایران خطے میں جاری کشیدگی اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر جنگ کے خاتمے کا حامی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس مرحلے پر جوہری پروگرام کی تفصیلات پر بات نہیں کی جا رہی، تاہم ایران ماضی میں ایٹمی مذاکرات کے دوران دو مرتبہ جارحیت کا سامنا کر چکا ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ترجمان کے مطابق پاکستان نے ثالثی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے اور حالیہ سفارتی رابطوں کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کے تبادلے کو جاری رکھنا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ایران کی 14 نکاتی تجویز پر گزشتہ دنوں متعدد سطحوں پر تبادلہ خیال ہوا، بعض نکات پر اتفاق رائے پیدا ہو گیا ہے جبکہ کچھ معاملات اب بھی زیر غور ہیں۔















