نئی دہلی: بھارت میں کیتن اگروال قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مرکزی ملزمان سیا گوئل اور چیتن چوہدری کی قتل سے قبل کی مبینہ ویڈیو منظرِ عام پر آ گئی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کو ایک نئی ویڈیو ملی ہے، جس میں سیا گوئل اور چیتن چوہدری ایک کیفے میں ایک ساتھ بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ ویڈیو 23 مئی کی رات تقریباً 9:30 بجے ریکارڈ کی گئی تھی، جو مبینہ قتل سے چند ہفتے قبل کی ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق ویڈیو کو کیس میں اہم دستاویزی ثبوت کے طور پر شامل کیا جا رہا ہے، جبکہ اس کی صداقت اور مقدمے سے تعلق کا مختلف شواہد کی مدد سے باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 18 جون کو پیش آنے والے واقعے کے روز سیا گوئل نے اپنے منگیتر کیتن اگروال کو لوہا گڑھ قلعے پر ٹریکنگ کے لیے جانے پر آمادہ کیا تھا، جہاں بعد ازاں انہیں مبینہ طور پر بلندی سے دھکا دے کر قتل کر دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ دونوں ملزمان واقعے سے قبل مسلسل رابطے میں تھے۔ تفتیش کے مطابق ان کے درمیان سینکڑوں گھنٹوں پر مشتمل فون کالز ہوئیں، جبکہ قتل سے ایک روز قبل بھی دونوں کی ملاقات ہوئی تھی۔
تحقیقاتی ادارے ویڈیو، کال ریکارڈز اور دیگر شواہد کی مدد سے واقعے کی تمام کڑیوں کو جوڑ رہے ہیں اور ملزمان کے خلاف مقدمے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔










