دل کی بیماریاں (ہارٹ اٹیک اور ہارٹ فیل) پاکستان سمیت دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور تشویشناک بات یہ ہے کہ اب نوجوان افراد بھی اس خطرے کی زد میں آ رہے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق 30 سے 45 سال کی عمر کے افراد میں دل کے امراض کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ خواتین میں یہ خطرہ مزید بڑھتا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید طرزِ زندگی، ذہنی دباؤ، غیر متوازن خوراک اور ہارمونز میں تبدیلیاں خواتین میں دل کی بیماریوں کے امکانات بڑھا رہی ہیں۔ چونکہ خواتین میں علامات اکثر مردوں کے مقابلے میں مختلف اور کم واضح ہوتی ہیں، اس لیے وہ انہیں عام تھکاوٹ یا کمزوری سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق Myocardial Infarction اور Heart Failure دو مختلف طبی حالتیں ہیں۔ ہارٹ اٹیک اس وقت ہوتا ہے جب دل کو خون فراہم کرنے والی شریان اچانک بند ہو جائے، جس سے دل کے پٹھوں کو آکسیجن نہیں ملتی اور وہ متاثر ہونے لگتے ہیں۔
اس کے برعکس ہارٹ فیل ایک طویل المدتی بیماری ہے جس میں دل کے پٹھے کمزور ہو کر جسم کی ضرورت کے مطابق خون پمپ نہیں کر پاتے۔ بعض صورتوں میں شدید ہارٹ اٹیک بعد میں ہارٹ فیل کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق خواتین میں ہارٹ اٹیک کی علامات مختلف ہو سکتی ہیں، جن میں سینے میں دباؤ یا جکڑن، گردن، جبڑے، کمر، کندھوں یا بازو میں درد، سانس پھولنا، ٹھنڈے پسینے آنا، متلی، چکر آنا، غیر معمولی تھکن اور بے چینی شامل ہیں۔
طبی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے باقاعدہ چیک اپ، تمباکو نوشی سے پرہیز، متوازن غذا اور ورزش کو معمول بنایا جائے۔ ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل جسمانی سرگرمی دل کی صحت کے لیے فائدہ مند قرار دی گئی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ابتدائی علامات کو نظر انداز کرنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے بروقت طبی مشورہ اور علاج نہایت ضروری ہے۔















