روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے افزودہ یورینیم کے معاملے پر ایک بار پھر تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو ماضی کی طرح اس حساس معاملے میں عملی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
ماسکو میں میڈیا سے گفتگو کے دوران پیوٹن نے یاد دلایا کہ روس 2015 میں بھی ایران سے افزودہ یورینیم کی منتقلی میں شامل رہا تھا، اور اگر ضرورت پیش آئی تو اسی طرز کے انتظام کو دوبارہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
روسی صدر کے مطابق ایران سے متعلق جاری تنازع اگر طول پکڑتا ہے تو اس کے اثرات تمام متعلقہ فریقوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف فریقین ایران سے یورینیم باہر منتقل کرنے کے اصول پر متفق رہے ہیں، تاہم بعد میں بعض سخت مؤقفوں نے مذاکرات کو پیچیدہ بنا دیا۔
پیوٹن نے اس معاملے کو انتہائی حساس اور پیچیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس کے ایران اور خلیجی ممالک دونوں کے ساتھ اہم تعلقات ہیں، اس لیے ماسکو خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران سے متعلق موجودہ تنازع جلد کسی مثبت سمت میں آگے بڑھے گا، کیونکہ ان کے بقول کوئی بھی فریق طویل بحران میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
روسی صدر نے اپنی گفتگو میں یوکرین تنازع کا بھی ذکر کیا اور اشارہ دیا کہ وہاں بھی معاملات ممکنہ حل کی جانب بڑھ سکتے ہیں، جبکہ سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے جوہری معاملے پر روس کی نئی پیشکش عالمی سفارت کاری میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
















