پلمونری ایمبولزم ایک خطرناک طبی حالت ہے جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب پھیپھڑوں کی شریانوں میں خون کا لوتھڑا (clot) پھنس کر خون کی روانی کو روک دیتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق یہ بیماری فوری تشخیص نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق پھیپھڑے خون کو جسم میں آکسیجن فراہم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن جب ان تک جانے والی شریان میں رکاوٹ پیدا ہو جائے تو مریض کی حالت اچانک بگڑ سکتی ہے۔
اکثر کیسز میں یہ خون کا لوتھڑا ٹانگوں کی گہری رگوں میں بنتا ہے، جسے ڈیپ وین تھرومبوسس (DVT) کہا جاتا ہے، اور پھر خون کے بہاؤ کے ذریعے پھیپھڑوں تک پہنچ کر خطرناک صورتحال پیدا کرتا ہے۔
اس بیماری کی سب سے عام علامت اچانک سانس کا پھولنا ہے، جو جسمانی سرگرمی کے دوران مزید شدید ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سینے میں درد، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا، چکر آنا، پسینہ آنا اور کھانسی کے ساتھ خون آنا بھی اس کی خطرناک علامات میں شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق پلمونری ایمبولزم ایک میڈیکل ایمرجنسی ہے اور اس میں فوری علاج ضروری ہوتا ہے، ورنہ مریض کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ بعض سنگین کیسز میں خون کا لوتھڑا ختم کرنے کے لیے ادویات یا سرجری بھی کرنا پڑ سکتی ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس بیماری سے بچاؤ کے لیے متحرک طرزِ زندگی اپنانا بہت ضروری ہے۔ روزانہ چہل قدمی اور ورزش خون کی روانی بہتر بناتی ہے اور لوتھڑے بننے کے خطرے کو کم کرتی ہے۔
اس کے علاوہ موٹاپے سے بچاؤ، تمباکو نوشی سے پرہیز، اور صحت مند غذا کا استعمال بھی اس بیماری سے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کمپریشن جرابوں کا استعمال بھی ٹانگوں میں خون کے بہاؤ کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔















