میانمار میں 11 ہزار قیراط کا نایاب یاقوت دریافت، غیر معمولی رنگت نے توجہ حاصل کر لی

میانمار میں 11 ہزار قیراط کا نایاب یاقوت دریافت، غیر معمولی رنگت نے توجہ حاصل کر لی

میانمار میں ایک انتہائی نایاب اور وزنی یاقوت دریافت ہوا ہے جسے ملک کی تاریخ کے بڑے قیمتی پتھروں میں شامل کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس یاقوت کا وزن تقریباً 11 ہزار قیراط ہے، جس نے قیمتی پتھروں کی عالمی صنعت میں خاص توجہ حاصل کر لی ہے۔

یہ نایاب پتھر موگوک کے قریب دریافت کیا گیا، جو میانمار میں قیمتی پتھروں خصوصاً یاقوت کے لیے عالمی شہرت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ ماضی میں اس سے زیادہ وزنی یاقوت بھی دریافت ہو چکا ہے، تاہم نئے دریافت ہونے والے پتھر کی رنگت، معیار اور چمک اسے غیر معمولی اہمیت دے رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس یاقوت میں جامنی مائل سرخ رنگ نمایاں ہے، جبکہ اس کی سطح کی چمک اور شفافیت اسے مزید قیمتی بناتی ہے۔ یہی خصوصیات ممکنہ طور پر اسے عالمی منڈی میں انتہائی بلند قدر دلا سکتی ہیں۔

دوسری جانب انسانی حقوق سے متعلق بعض عالمی تنظیموں نے میانمار سے حاصل ہونے والے قیمتی پتھروں کی خریداری پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، کیونکہ یہ شعبہ طویل عرصے سے ملکی سیاسی اور عسکری حالات سے جڑا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس دریافت نے نہ صرف قیمتی پتھروں کی مارکیٹ میں دلچسپی بڑھائی ہے بلکہ میانمار کے معدنی وسائل اور وہاں کی علاقائی صورتحال کو بھی دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

Popular Posts

مزید خبریں