یونیورسٹی کالج لندن کے محققین کے مطابق جو افراد باقاعدگی سے ثقافتی اور تخلیقی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، ان کی حیاتیاتی عمر نسبتاً کم اور بڑھاپے کی رفتار سست پائی گئی۔
تحقیق میں برطانیہ کے ہزاروں افراد کے خون کے نمونے اور طرزِ زندگی کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ فنونِ لطیفہ سے وابستہ افراد میں ڈی این اے میں ہونے والی تبدیلیوں کی رفتار کم دیکھی گئی، جو عمر بڑھنے کے عمل سے جڑی ہوتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ہفتے میں کم از کم ایک بار آرٹ، موسیقی یا مطالعہ جیسی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے افراد میں بڑھاپے کی رفتار واضح طور پر کم تھی۔ یہ اثر تقریباً اسی طرح تھا جیسے باقاعدہ ورزش کرنے سے صحت پر مثبت اثرات پڑتے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ ایسی سرگرمیاں ذہنی دباؤ کم کرتی ہیں، سماجی تعلقات بہتر بناتی ہیں اور جسمانی و ذہنی صحت پر مثبت اثر ڈالتی ہیں، جس سے مجموعی طور پر عمر بڑھنے کا عمل سست ہو سکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ صرف ایک نہیں بلکہ مختلف قسم کی تخلیقی سرگرمیوں میں حصہ لینا زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔















