گل پلازہ ریسکیو میں اب لاشوں کے بجائے انسانی باقیات مل رہی ہیں، 14 افراد کی شناخت مکمل

گل پلازہ ریسکیو میں اب لاشوں کے بجائے انسانی باقیات مل رہی ہیں، 14 افراد کی شناخت مکمل

کراچی کے گل پلازہ کے ملبے سے ملنے والی انسانی باقیات میں سے اب تک مجموعی طور پر 14 افراد کی شناخت ہو چکی ہے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق ریسکیو ٹیموں کو اب لاشوں کے بجائے زیادہ تر جلی ہوئی اور بری طرح متاثرہ باقیات مل رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملبے سے ٹوٹی ہڈیاں اور دانت نکل رہے ہیں، جبکہ ہڈیوں کی حالت ایسی ہے کہ کئی جگہ ڈی این اے کے لئے سیمپل لینا بھی ممکن نہیں رہا۔

ڈاکٹر سمعیہ سید کا کہنا ہے کہ جب ڈی این اے ٹیسٹ نہ ہو تو باقیات کو ورثا کے حوالے کرنے میں شدید مشکلات پیدا ہوتی ہیں، کیونکہ شناخت کے لئے قابل اعتماد سائنسی طریقہ محدود ہو جاتا ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق آپریشن کے دوران میزنائن فلور کی ایک دکان سے بڑی تعداد میں سوختہ حالت میں لاشیں برآمد ہوئیں، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 63 بتائی جا رہی ہے۔ سٹی پولیس کے ایس ایس پی عارف عزیز نے بتایا کہ لاشیں میزنائن فلور پر موجود دبئی کراکری نامی دکان سے ملی ہیں اور ان کی حالت جلی ہوئی ہے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق ملبہ ہٹانے کے کام کو وقتی طور پر روکا گیا ہے، پہلے ملبے میں موجود افراد اور لاشیں نکالنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق آگ لگنے کے بعد کئی افراد نے جان بچانے کے لئے خود کو دکان کے اندر بند کر لیا تھا، اور بعض متاثرین کی آخری موبائل لوکیشن بھی اسی جگہ کی رپورٹ ہوئی۔

دبئی کراکری دکان کے مالک سلمان نے کہا کہ ان کی ٹیم نے اپنی طرف سے بھی 14 افراد کی باقیات نکالی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کے وقت دکان میں ان کے کزن اور ملازمین موجود تھے، اور دکان میں خواتین سمیت دیگر افراد کی تعداد بھی زیادہ تھی۔

Popular Posts

مزید خبریں