بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں اور بھاری بلوں سے پریشان شہری اب تیزی سے سولر انرجی کی جانب منتقل ہو رہے ہیں، تاہم سولر سسٹم لگوانے سے پہلے کچھ اہم حقائق جاننا ضروری ہیں۔
حالیہ دنوں میں بجٹ میں سولر پینلز پر مزید ٹیکس لگنے کی خبروں کے بعد مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق جو سولر پینلز چند روز قبل نسبتاً کم قیمت پر دستیاب تھے، اب ان کی قیمت 26 ہزار سے بڑھ کر 32 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔
اسی طرح انورٹرز کی قیمتوں میں بھی تقریباً 20 ہزار روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ایک سے تین کلو واٹ تک کے چھوٹے سولر سسٹمز بھی 5 سے 10 ہزار روپے مہنگے ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب 5 کلو واٹ کی لیتھیم بیٹری کی قیمت تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، جس سے متوسط طبقے کے لیے سولر سسٹم لگوانا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر جنرل سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جس کے باعث ڈیلرز نے پہلے ہی قیمتوں میں اضافہ شروع کر دیا ہے۔
سولر مارکیٹ ڈیلرز کے مطابق پینلز کی درآمد پر پہلے سے 10 فیصد ٹیکس موجود ہے، جبکہ مزید ممکنہ ٹیکسز کے خدشے نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سولر سسٹم خریدنے سے پہلے صارفین اپنی بجلی کی ضروریات، بیٹری بیک اپ، انورٹر کی کوالٹی اور وارنٹی کو ضرور مدِنظر رکھیں تاکہ بعد میں اضافی اخراجات سے بچا جا سکے۔
















