سانحہ بلدیہ کراچی کی تاریخ کے اُن المناک واقعات میں شامل ہے جس کی یاد آج بھی صحافیوں، متاثرہ خاندانوں اور شہریوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ ایک کورٹ رپورٹر نے اس ہولناک سانحے کی کوریج کے دوران گزرنے والے 48 گھنٹوں کی داستان بیان کرتے ہوئے کئی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
رپورٹر کے مطابق وہ اپنے کیمرہ مین زین صدیقی اور نعمان شیخ کے ساتھ مسلسل دو دن تک اس اندوہناک واقعے کی کوریج کرتا رہا۔ ان کے بقول آج بھی سوختہ لاشیں، آگ کی تپش، جنازے اور شہر بھر کی بے چینی ذہن سے محو نہیں ہو سکی۔
انہوں نے بتایا کہ سانحے کے بعد ایک اہم پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب انہیں ایک ذریعے سے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) رپورٹ کے مندرجات سے آگاہ کیا گیا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ علی انٹرپرائزز فیکٹری کو مبینہ طور پر بھتہ نہ دینے پر آگ لگائی گئی۔
رپورٹر کے مطابق جے آئی ٹی میں ایک گرفتار ملزم کے حوالے سے انکشافات شامل تھے، جن میں حماد صدیقی اور کینیڈا میں موجود ایک اہم شخصیت کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جیسے ہی یہ خبر نشر کی گئی تو کراچی کی سیاست میں ہلچل مچ گئی اور مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔
رپورٹر نے بتایا کہ اس خبر کے بعد اے آر وائی نیوز کی نشریات شہر کے مختلف علاقوں میں متاثر ہونا شروع ہو گئیں جبکہ ادارے پر بھی دباؤ بڑھ گیا تھا۔
انہوں نے اپنی روداد میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ اتنی اہم معلومات منظرعام پر آنے میں دو سال کیوں لگے، جبکہ بعد ازاں سپریم کورٹ کی جانب سے مرکزی ملزمان عبدالرحمن بھولا اور زبیر چریا کی سزائیں کالعدم قرار دیے جانے کے بعد عدالتی اور تحقیقاتی نظام پر بھی سوالات کھڑے ہو گئے۔















