وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے کرپٹو کرنسی بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ پاکستان نے کرپٹو کرنسی کے میدان میں نمایاں ترقی کرتے ہوئے بھارت اور اسرائیل جیسے ممالک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بلال بن ثاقب کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی کرپٹو مارکیٹ کو تسلیم کیا جا رہا ہے اور ملک نے ڈیجیٹل معیشت میں اپنی مضبوط موجودگی منوائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کرپٹو کے ساتھ ساتھ روبوٹکس اور آرٹیفشل انٹیلی جنس جیسے جدید شعبوں پر بھی بھرپور توجہ دے۔
انہوں نے زور دیا کہ بلاک چین اور مصنوعی ذہانت مستقبل کی معیشت، دفاع اور ٹیکنالوجی کے بنیادی ستون بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق دنیا تیزی سے ڈیجیٹل اکانومی کی جانب بڑھ رہی ہے، جہاں اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی نہ صرف کاروبار بلکہ عالمی مسابقت میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
بلال بن ثاقب نے کہا کہ نوجوان نسل کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ پاکستان عالمی سطح پر مؤثر مقابلہ کر سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک میں اے آئی اور بلاک چین کو قومی ترقی کے اہم منصوبوں جیسی ترجیح دی جانی چاہیے۔
ان کے مطابق پاکستان اگر “پاکستان فرسٹ” حکمت عملی کے تحت جدید ٹیکنالوجی اپنائے تو نوجوانوں کے لیے نئے معاشی مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، جبکہ سنگل پرسن کمپنیوں کے ذریعے بھی اربوں ڈالر کی معاشی سرگرمیاں ممکن بنائی جا سکتی ہیں۔
















