عنوان: کانگریس میں امریکی وزیر دفاع کا دوٹوک مؤقف، ایران جنگ پر تنقید مسترد، اسلحہ ذخائر کی بحالی میں وقت لگنے کا اعتراف

عنوان: کانگریس میں امریکی وزیر دفاع کا دوٹوک مؤقف، ایران جنگ پر تنقید مسترد، اسلحہ ذخائر کی بحالی میں وقت لگنے کا اعتراف

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کے بعد پہلی مرتبہ کانگریس میں پیش ہوئے، جہاں انہوں نے امریکی فوجی اقدامات کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے ناقدین کو سخت جواب دیا۔

سماعت کے دوران ڈیموکریٹ رکن جان گارامندی نے ایران جنگ کو سیاسی اور معاشی طور پر خطرناک قرار دیتے ہوئے اسے ’دلدل‘ سے تشبیہ دی، جس پر وزیر دفاع نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایسی زبان دشمن قوتوں کو پروپیگنڈا کا موقع فراہم کرتی ہے اور قومی مفاد کے خلاف جا سکتی ہے۔

انہوں نے اپوزیشن ارکان پر تنقید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر مدت کے فوجی مشن کو ناکامی یا دلدل قرار دینا امریکی افواج کی کارکردگی کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق ایران سے متعلق امریکی کارروائیاں ایک محدود اور واضح حکمت عملی کے تحت جاری ہیں۔

سماعت کے دوران امریکی دفاعی تیاریوں سے متعلق اہم انکشاف بھی سامنے آیا، جب سینیٹر مارک کیلی کے سوال پر وزیر دفاع نے تسلیم کیا کہ استعمال ہونے والے اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر کی مکمل بحالی میں کئی ماہ سے لے کر چند برس تک لگ سکتے ہیں۔

پیٹ ہیگسیتھ نے واضح کیا کہ جدید جنگی سازوسامان اور اسلحہ کی تیاری فوری طور پر ممکن نہیں، اس لیے دفاعی پیداوار اور سپلائی چین کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔

دوسری جانب ڈیموکریٹک ارکان نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایران سے جاری تنازع امریکا کو طویل المدتی عسکری اور مالی دباؤ میں مبتلا کر سکتا ہے، جبکہ امریکی دفاعی قیادت بدستور یہ مؤقف رکھتی ہے کہ تمام اقدامات محدود دائرہ کار اور مخصوص اہداف کے تحت کیے جا رہے ہیں۔

Popular Posts

مزید خبریں