عنوان: امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق فوجی کارروائیاں روکنے کی قرارداد ایک بار پھر مسترد

عنوان: امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق فوجی کارروائیاں روکنے کی قرارداد ایک بار پھر مسترد

امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی قرارداد ایک مرتبہ پھر ناکام ہو گئی، جہاں سینیٹرز کی اکثریت نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں امریکی فوجی مداخلت ختم کرنے سے متعلق قرارداد کو 47 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے رد کر دیا گیا۔ یہ مسلسل چھٹی بار ہے کہ اس نوعیت کی قرارداد سینیٹ سے منظوری حاصل نہ کر سکی۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ ووٹنگ کے مقابلے میں اس بار قرارداد کو ایک ووٹ کم ملا، جس سے اس کی حمایت میں مزید کمی دیکھی گئی۔

یہ قرارداد معروف ڈیموکریٹک سینیٹر ایڈم شِف کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جنہوں نے ایران کے حوالے سے امریکی عسکری پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا۔

ووٹنگ کے دوران پینسلوینیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے قرارداد کی مخالفت کی، جبکہ ری پبلکن پارٹی کے دو ارکان سوزن کولنز اور رینڈ پال نے اس کی حمایت میں ووٹ دیا۔ سوزن کولنز کی جانب سے پہلی مرتبہ اس نوعیت کی قرارداد کے حق میں ووٹ دینا سیاسی حلقوں میں خاص توجہ کا مرکز بنا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سینیٹ میں مسلسل ناکامی اس بات کی عکاس ہے کہ ایران سے متعلق امریکی پالیسی پر سیاسی تقسیم برقرار ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث یہ معاملہ آئندہ بھی امریکی سیاست میں اہم موضوع رہنے کا امکان رکھتا ہے۔

Popular Posts

مزید خبریں