انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے 2026 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کے انڈیا میں طے شدہ میچز کسی اور ملک منتقل کرنے کی درخواست قبول نہیں کی۔ آئی سی سی کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں سے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ساتھ مسلسل رابطہ اور بات چیت جاری رہی، مقصد بنگلہ دیش کی ٹورنامنٹ میں شرکت یقینی بنانا تھا۔
آئی سی سی نے بتایا کہ بی سی بی کے ساتھ آزاد سکیورٹی جائزوں کے نتائج اور انڈیا کے حکام کی طرف سے سکیورٹی کی یقین دہانیاں شیئر کی گئیں۔ آئی سی سی کے مطابق ان معلومات کی بنیاد پر بنگلہ دیش ٹیم کے تحفظ کے خلاف کوئی مصدقہ اور قابلِ اعتماد خطرہ سامنے نہیں آیا۔
آئی سی سی کے بیان کے مطابق بی سی بی اپنے مؤقف پر قائم رہا اور اس نے ٹورنامنٹ میں شرکت کے معاملے کو ایک واحد واقعے سے جوڑ رکھا ہے، جس کا تعلق ڈومیسٹک لیگ کے پس منظر سے بتایا گیا۔ رپورٹس کے مطابق تنازع کی ایک وجہ بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان سے جڑی صورتحال بھی بتائی گئی۔
آئی سی سی نے واضح کیا کہ جب تک کوئی آزاد سکیورٹی جائزہ ایسی سفارش نہ کرے، میچز کی جگہ تبدیل نہیں کی جائے گی۔ آئی سی سی کے مطابق اس مرحلے پر شیڈول میں تبدیلی سے دیگر ٹیموں اور دنیا بھر کے شائقین کے لئے شیڈول اور لاجسٹکس کے مسائل پیدا ہوں گے۔
یاد رہے کہ 2026 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی میزبانی انڈیا اور سری لنکا کے پاس ہے اور آغاز 7 فروری سے بتایا گیا ہے۔ پاکستان کے میچز انڈیا کے بجائے سری لنکا میں رکھے گئے ہیں، اس کی وجہ دونوں ملکوں کے تعلقات سے جڑی پالیسی بتائی جاتی ہے۔






