آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز مرچنٹ ایسوسی ایشن کے صدر ارشد کُم کُم نے الزام عائد کیا ہے کہ جیولری مارکیٹوں میں بعض ایف آئی اے اہلکار بھیس بدل کر آتے ہیں اور مبینہ طور پر غیر منصفانہ کارروائیاں کرتے ہوئے نقصان پہنچاتے ہیں۔
کراچی میں صرافہ مارکیٹ میں چھاپوں کے خلاف منعقدہ ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران تاجروں نے سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور حالات ناقابلِ برداشت ہو چکے ہیں۔
تاجروں کے مطابق انہیں کاروبار کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو وہ مارکیٹیں بند کرنے پر بھی مجبور ہو سکتے ہیں۔
پریس کانفرنس میں موجود دیگر رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض اشیاء قانونی طریقہ کار کے مطابق مارکیٹ تک پہنچ رہی ہیں، اس کے باوجود چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے کاروباری برادری میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا نوٹس لیا جائے اور کاروباری طبقے کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔















