حکومت نے انکم ٹیکس ریٹرن تاخیر سے جمع کرانے والے افراد کے لیے بڑی مالی سختی کی تجویز دے دی ہے، جس کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ (ATL) میں دوبارہ شامل ہونے کی فیس میں نمایاں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
مجوزہ فنانس بل 2026 کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 182A میں ترمیم کی جا رہی ہے، جس کے تحت انفرادی ٹیکس دہندگان کے لیے ATL بحالی فیس 1,000 روپے سے بڑھا کر 25,000 روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح ایسوسی ایشن آف پرسنز کے لیے یہ فیس 10,000 روپے سے بڑھا کر 50,000 روپے جبکہ کمپنیوں کے لیے 20,000 روپے سے بڑھا کر 1 لاکھ روپے کرنے کی تجویز شامل ہے۔
ATL وہ فہرست ہے جس میں مقررہ وقت پر ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والے افراد شامل ہوتے ہیں، جبکہ تاخیر کرنے والوں کو مختلف مالی اور قانونی سہولتوں میں اضافی ٹیکس کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیسے بینکنگ ٹرانزیکشنز، جائیداد کی خریداری، گاڑیوں کی رجسٹریشن اور بیرونِ ملک سفر۔
حکومتی موقف کے مطابق کم فیس کی وجہ سے ٹیکس ریٹرن بروقت جمع نہ کرانے کا رجحان ختم نہیں ہو رہا تھا، اسی لیے فیس میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے تاکہ بروقت فائلنگ کو فروغ دیا جا سکے۔
اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو نئی فیس یکم جولائی 2026 سے نافذ ہوگی، جس کے بعد دیر سے ریٹرن فائل کرنا مزید مہنگا ہو جائے گا۔















