ایران کے ایک سینئر پارلیمانی رہنما نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے پاس میزائلوں اور ڈرونز کے ایسے وسیع ذخائر موجود ہیں جو طویل عرصے تک کسی بھی ممکنہ جنگی صورتحال کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے نائب سربراہ علاؤالدین بروجردی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران نے اپنی تمام دفاعی صلاحیتیں ابھی تک ظاہر نہیں کیں اور کئی پہلو اب بھی خفیہ رکھے گئے ہیں۔ ان کے مطابق ملک کی عسکری تیاری اس سطح تک پہنچ چکی ہے کہ برسوں تک دفاعی کارروائیاں جاری رکھی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تہران نے ابھی اپنی مکمل فوجی طاقت استعمال نہیں کی، جبکہ موجودہ وسائل کسی بھی طویل المدتی چیلنج سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔
بروجردی نے امریکی بحری ناکہ بندی کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات مؤثر نہیں ہیں۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب متعدد بحری جہاز گزرنے کے منتظر ہیں جبکہ ایرانی جہاز بھی بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے باب المندب کی اسٹریٹجک اہمیت پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ گزرگاہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملاتی ہے اور عالمی بحری تجارت کے لیے نہایت اہم ہے، اس لیے وہاں ہونے والی پیش رفت کے اثرات وسیع پیمانے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایرانی رہنما کا کہنا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنے خودمختار حقوق کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور اس حوالے سے کسی بھی پیش رفت کو سفارتی ذرائع سے آگے بڑھایا جائے گا۔







